Recents in Beach

موٹاپا کیسے ماں بننے میں رکاوٹ بنتا ہے؟


 

موٹاپا ایک ایسی بیماری ہے جو لا علاج ہے۔ اگر آپ خود سے اس پر قابو نہ رکھ پائیں تو یہ بے قابو ہو جاتا ہے۔ مرد حضرات کے لیے بھی موٹاپے کی وجہ سے کولیسٹرول کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن اگر خواتین کی بات کریں تو ان کے لیے موٹاپا ایک ایسی سنگین بیماری ہے جو ان کے لیے ماں بننے کے عمل میں بھی رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے۔ یہ دراصل ایک خاتون میں حمل کو جاری رکھنے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر متاثر کرتا ہے۔ موٹی خواتین میں حمل ٹہرنے کا تناسب دیگر خواتین کے مقابلے 50 فیصد کم ہوتا ہے جس کی وجہ ان کی جسمانی ضروریات میں کمی اور حد سے زیادہ زیادتی ہونا ہے۔ موٹاپا دراصل بانجھ پن کی ایک عام وجہ ہے کیونکہ عورت کے جسمانی ہارمونز متاثر ہوتے ہیں یا تو پی سی او کا مسئلہ بڑھ جاتا ہے یا پھر کوئی مذید دیگر جسمانی مشکل ہوتی ہیں جو انڈے بننے میں مسائل پیدا کر دیتی ہیں۔

ڈاکٹر کی رائے

اسی حوالے سے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ: موٹاپے کا تعلق ذیابیطس، میلیٹس ہائپر ٹینشن کورونری ہارٹ ڈیزیز، آسٹیو آرتھرائٹس، اینڈومیٹریم چھاتی اور آنتوں کے کینسر سے ہے۔ یہ تولیدی امراض میں بھی منفی کردار ادا کرتا ہے۔ حمل کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر یا پری ایکلیمپسیا ہو جاتا ہے لیکن اگر آپ کا وزن زیادہ ہے تو آپ کو یہ شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ موٹاپا حمل کے ضائع ہونے کی بھی ایک عام وجہ ہے کیونکہ انڈوں یا بچہ دانی میں اضافی فیٹ بڑھ جاتا ہے جو تکلیف دہ ہوتا ہے۔

موٹاپا اور ہارمونز

موٹاپے کی وجہ سے ٹیسٹوسٹیرون فولیکلز ہارمون اور جنسی ہارمون بائنڈنگ گلوبلن میں کمی ہوتی ہے۔ بھاری خواتین میں اینڈروجن میٹابولزم اور ایسٹروجن میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ایسے مرد جن کا وزن زیادہ ہے ان کے ایسٹروجن اور ٹیسٹوسٹیرون میں کمی ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر موٹاپے کا مسئلہ مرد حضرات کا ہو تو انہیں بھی وزن کم کرنا چاہیے لیکن اگر خواتین کے ساتھ ہے تو وہ اس معاملے میں سنجیدگی سے سوچیں۔ ہارمون لیپٹن میں خلل کامیاب فرٹیلائزیشن کو روک سکتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments