اگر آپ کا بجلی کا بل بھی زیادہ آ رہا ہے تو جانیں ایسے کارآمد طریقے جس سے بجلی کا بل بھی کم آئے اور بھرپور بچت بھی ہو



آج کل بجلی کا بل ہر کسی کا دگنا آرہا ہے کوئی اس مسئلے سے پریشان ہے تو کوئی کم یونٹ استعمال کرکے بھی ہزاروں روپے کے بل بھر رہے ہیں۔ ہر گھر میں اے سی نہیں ہوتا پھر بھی ان کا بل اس قدر آرہا ہے۔ آپ بھی اسی مسئلے کا شکار ہیں تو سب سے پہلے احتیاط برتنا شروع کردیں کیونکہ ہم خود اضافی لائٹیں جلا کر چھوڑ دیتے ہیں اور مہینے بھر خیال نہیں کرتے لیکن جب بل دیکھتے ہیں تو آنکھیں پھٹی رہ جاتی ہیں۔ کوشش کریں بجلی کا زیادہ سے زیادہ استعمال دن میں کرلیں تاکہ شام 7 سے 10 بجے تک کم استعمال ہو اور بل میں بھی کمی آئے۔

بجلی کے عام بلب سستے تو ہوتے ہیں لیکن یہ بجلی زیادہ کھینچتے ہیں جس سے بل زیادہ آتا ہے۔ ان عام اور سستے بلب کی جگہ اگر ایل ای ڈی لائٹس اور سیورز استعمال کیے جائیں تو آپ کو بل میں نمایاں فرق محسوس ہوگا۔






یہ پیک آورز مختلف شہروں میں مختلف ہوسکتے ہیں جیسے کراچی کے پیک آورز ساڑھے 6 سے رات ساڑھے 10 بجے تک ہیں اور اسلام آباد میں 6 سے 10 یا 7 سے 11 ہیں۔ البتہ یہ پیک آورز عموماً شام کے وقت میں ہی ہوتے ہیں جس دوران بھاری بجلی کے آلات جن میں اے سی، واشنگ مشین، استری وغیرہ استعمال نہیں کرنے چاہیں۔ ان گھنٹوں کو پیک آورز اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس وقت بجلی کی مانگ بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے بجلی کی فی یونٹ قیمت نسبتاً بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین اے سی کو 26 پر چلانے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اس سے کم پر چلانے کی صورت میں بجلی کے بل میں بہت زیادہ اضافہ ہونے کا خدشہ ہے جبکہ درجہ حرارت کے حساب سے اے سی کو 26 پر چلانے سے کمرے کی کولنگ بھی مناسب ہوتی ہے۔

اگر آپ واشنگ مشین کے ڈرائیر سے کپڑے خشک کرنے کے عادی ہیں تو آپ کے سالانہ بجلی کے بل میں ہزاروں روپے کا اضافہ ہوسکتا ہے تو اس کی جگہ کپڑوں کو ممکن ہو تو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں اور لٹکا کر خشک کریں۔



 

Post a Comment

0 Comments